
اسلام آباد: (آئی پی ایس ) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے لگی ہے، ایران نے دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے جبکہ ایران اور امریکہ نے بھی عارضی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق دو ہفتوں کے لیے بحری جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا، تاہم جہاز رانی ایران کی مسلح افواج کے ساتھ مکمل کوآرڈینیشن کے تحت ہوگی۔
دوسری جانب پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں، جس کے نتیجے میں ایران اور امریکہ نے دو ہفتوں کے لیے جنگ روکنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس سلسلے میں 10 اپریل کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان اہم مذاکرات ہوں گے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک دانشمندانہ قدم ہے جو خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ایران اور امریکہ کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے وفود کو اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے جنگ کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کیا، اور اگر ایران کے خلاف حملے بند کر دیے جائیں تو ایرانی افواج بھی اپنی کارروائیاں معطل کر دیں گی۔
ایران نے مذاکرات کے لیے 10 نکاتی تجویز بھی پیش کی ہے جس میں یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے، پابندیاں ختم کرنے اور مستقبل میں حملوں کے خلاف ضمانتیں شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق دو ہفتوں کی جنگ بندی دو طرفہ ہوگی۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 23 فیصد کمی کے بعد 92.14 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران اور عمان نے بھی منصوبہ بنایا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کی جائے گی جسے ایران تعمیرِ نو کے لیے استعمال کرے گا۔
ایران بھر میں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف کامیابی کے نعرے لگائے، جبکہ پاکستان کے حق میں بھی تشکر کے نعرے سنائی دیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہو گئے تو خطے میں ایک بڑے تنازع کے مستقل حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔





