
بیجنگ : بیجنگ میں منعقدہ چائنا ڈیولپمنٹ فورم 2026 کے سالانہ اجلاس میں تقریباً ایک سو کثیر القومی کمپنیوں کے سربراہان نے چین کے ساتھ "موسمِ بہار کی ملاقات” میں شرکت کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ تیزی سے مشرق، خصوصاً چین کی جانب مبذول ہو رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہی ہے جس کا اظہار چین کے وزیرِاعظم لی چھیانگ نے اپنے کلیدی خطاب میں کیا کہ چین دنیا کے لیے "اعتماد کا ستون ” اور "استحکام کا مرکز” بننے کے لیے پرعزم ہے۔یہ استحکام اور پیش بینی چین کی مستقل مزاج حکمت عملی سے جڑی ہے، جہاں ایک جامع منصوبہ بندی کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جاتا ہے۔
وائکنگ کروز چائنا کے منیجنگ ڈائریکٹر ٹانگ بوون نے کہا کہ چینی حکومت کی منصوبہ بندی میں دور اندیشی اور یقین دہانی نمایاں ہے، جو کمپنیوں کو سرمایہ کاری بڑھانے کا حوصلہ دیتی ہے۔اسی طرح چین کی وسیع منڈی بھی عالمی کمپنیوں کے لیے پرکشش ہے۔ امریکی کمپنی فیڈایکس نے لاجسٹکس کے شعبے میں مواقع دیکھے، سنگاپور کی ول مار انٹرنیشنل نے اجناس کی منڈی میں وسعت کا اندازہ لگایا، جبکہ سوئٹزرلینڈ کی نیسلے نے چین میں ابھرتے ہوئے صارفین کے نئے رجحانات کو محسوس کیا۔مزید برآں، چین کی مضبوط اختراعی صلاحیت بھی عالمی توجہ کا مرکز ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کے نزدیک چین اب صرف "دنیا کی فیکٹری” نہیں بلکہ جدید اطلاقی اختراعات کا ایک اہم عالمی مرکز بن چکا ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق چین مستقبل میں جدید ٹیکنالوجی کے تجربات اور رجحانات کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔موجودہ حالات میں چین کی معیاری ترقی کی رفتار مضبوط ہے اور اس کی معیشت مزید کھل رہی ہے۔ کثیر القومی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر اگرچہ یکطرفہ پالیسیوں اور تحفظ پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم تعاون اور مشترکہ ترقی کی قوتیں بدستور غالب ہیں، اور کھلا تعاون ہی اس دور کا بنیادی رجحان ہے۔




