
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا، عاطف اکرام شیخ
اسلام آباد:فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کے حکومتی فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یکمشت اتنا بڑا اضافہ ملک میں مہنگائی کے طوفان کو مزید تیز کر دے گا۔
اپنے بیان میں عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے اثرات براہِ راست صنعت، تجارت اور عام شہریوں پر پڑیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات، پیداواری لاگت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس بڑے اضافے سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی اور معیشت پر مزید دباؤ پڑے گا۔
ان کے مطابق حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ایسے وقت میں کیا ہے جب ملکی معیشت پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے مزید کہا کہ پٹرولیم قیمتوں میں بڑے اضافے کے بعد ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا دینا مزید مشکل ہو جائے گا جبکہ صنعتوں کو چلانا دن بدن ناممکن بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتکار اور تاجر برادری پہلے ہی زیادہ شرح سود، مہنگی توانائی اور بھاری ٹیکسوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔عاطف اکرام شیخ کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں پٹرولیم قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کاروباری ماحول کو مزید خراب کرے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیے گئے اضافے پر فوری نظرِ ثانی کی جائے اور کاروباری طبقے سمیت عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے تناظر میں سپلائی چین کو بحال رکھنے اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے بوجھ کو کم سے کم عوام تک منتقل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے اور عوام کو مہنگائی سے بچانے کے لیے فوری سبسڈی کا اعلان کرے۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے یہ بھی کہا کہ آنے والے دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی کھپت کم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو سلامت رکھے اور ملک کو موجودہ معاشی مشکلات سے نکالے کیونکہ عوام کی پریشانیاں اور مشکلات روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔





