
پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں نے اقلیتی نشستوں پر انتخابی نظام کا مطالبہ کیا ہے۔
لاہور پریس کلب کے سامنے تحریک رواداری نے بھوک ہڑتال کا انعقاد کیا
اسلام آباد { }
تحریکِ رواداری کے چیئرمین سیمسن سلامت نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ جداگانہ اور مخلوط طرزِ انتخاب کو قبول نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کو قومی دھارے میں مؤثر نمائندگی دینے کے لیے ڈبل ووٹ کا حق دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے حقیقی نمائندے خود منتخب کر سکیں۔
اس بھوک ہڑتال میں پاکستان بھر سے مختلف تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ آل پاکستان کرسچن لیگ کی نمائندگی پروفیسر سلامت اختر مرحوم کی صاحبزادی، سیمرا آشر نے کی۔ انہوں نے سیمسن سلامت کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے والد ہمیشہ یہ تلقین کرتے تھے کہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے مل جل کر جدوجہد کی جائے۔ اسی جذبے کے تحت وہ اپنے مسیحی بہن بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہیں گی۔
آخر میں تحریکِ رواداری کے چیئرمین سیمسن سلامت نے شرکت کرنے والی تمام تنظیموں اور افراد کا شکریہ ادا ک





