
اقوام متحدہ : اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نائب مندوب سون لے نے اقوام متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی دفتر کے زیر اہتمام "وسطی ایشیا ابتدائی انتباہی نیٹ ورک” منصوبے کی بریفنگ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک کو انتخابی بنیادوں پر انسدادِ دہشت گردی اور دوہرے معیار کے رویوں کے خلاف متحد ہونا چاہیے۔ہفتہ کے روز انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اگرچہ وسطی ایشیا کا خطہ مجموعی طور پر مستحکم ہے،
تاہم دہشت گردی کے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والے خطرات بدستور موجود ہیں۔ حالیہ عرصے میں شام، افغانستان اور پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے واقعات پیش آئے ہیں، جو نہایت تشویش ناک ہیں اور اعلیٰ سطح توجہ کے متقاضی ہیں۔ چین کی خواہش ہے کہ اقوام متحدہ کا انسدادِ دہشت گردی دفتر، وسطی ایشیا کا مرکز برائے احتیاطی سفارت کاری، چین۔وسطی ایشیا تعاون میکانزم، شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر علاقائی فورمز کے ساتھ تبادلۂ خیال اور عملی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے، تاکہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مؤثر بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام ممالک کو مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے تصور پر کاربند رہتے ہوئے بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون کو مزید فروغ دینا چاہیے اور انتخابی رویوں اور دوہرے معیار کی سختی سے مخالفت کرنی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو تنازعات کا شکار علاقوں میں کشیدگی کم کرنے اور دہشت گرد عناصر کے لیے گنجائش محدود کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو افغانستان کے ساتھ روابط اور تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے، تاکہ اس ملک کو ایک بار پھر دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکا جا سکے ۔ ساتھ ہی تمام ممالک پر لازم ہے کہ اقوام متحدہ کے 2030 کے پائیدار ترقیاتی ایجنڈے پر تیزی سے عمل درآمد کریں، تاکہ دہشت گردی کے جنم لینے کے بنیادی اسباب کا خاتمہ کیا جا سکے۔




