بین الاقوامی

یورپ اور چین کو ایک دوسرے کو شراکت دار کے طور پر دیکھنا چاہیے، صدر بلغاریہ

بیجنگ:ایلیانا یوتووا بلغاریہ کی پہلی خاتون صدر منتخب ہوئیں۔ اس سے قبل اکتوبر 2025 میں منعقد ہونے والی عالمی خواتین سربراہی کانفرنس کے موقع پر، اُس وقت نائب صدر کے منصب پر فائز ایلیانا یوتووا نے چین کا دورہ کیا تھا اور چائنا میڈیا گروپ کو ایک خصوصی انٹرویو دیا تھا ۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے چین کی جدید ٹیکنالوجی اور قدیم تہذیب کے امتزاج کو سراہتے ہوئے کہا کہ "چینی عوام کو اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ وہ ایسی عظیم تہذیب اور بھرپور تاریخ کے خوش نصیب وارث ہیں، جو درحقیقت پوری انسانیت کا قیمتی اثاثہ ہے۔”بلغاریہ نہ صرف بیلٹ اینڈ روڈ کا شراکت دار ملک ہے بلکہ یورپی یونین کا رکن ملک بھی ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور چین۔وسطی و مشرقی یورپ ممالک تعاون فریم ورک کے تحت، چین اور بلغاریہ کے درمیان زراعت، نئی توانائی، مواصلات اور آٹوموبائل مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں عملی تعاون مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔ایلیانا یوتووا نے چین۔بلغاریہ تعلقات کے بارے میں کہا کہ فریقین کے تعلقات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دو مختلف ممالک باہمی تفہیم اور مشترکہ خوشحالی حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت مواقع سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے ہمہ گیر تعاون اور دوطرفہ سرمایہ کاری میں مزید اضافہ کیا جانا چاہیے۔چین۔یورپ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں یورپی یونین کے اداروں اور چین کے درمیان رابطوں میں اضافے کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی برسوں سے چین اور یورپ کے درمیان تبادلۂ خیال اور مکالمہ کبھی منقطع نہیں ہوا۔ تاہم، امید ہے کہ یہ روابط مزید مضبوط اور پائیدار ہوں گے۔ فریقین کو زیادہ ملاقاتیں کرنی چاہئیں، زیادہ بات چیت اور زیادہ تبادلۂ خیال ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ چین اور یورپ کو ایک دوسرے کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار سمجھتے ہوئے مشترکہ طور پر آگے بڑھنا چاہیے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker