
چین-افریقہ تعاون فورم نے موثر تعاون کا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، محمود علی یوسف
بیجنگ:افریقی یونین کمیشن کے چیئرمین محمود علی یوسف نے ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں افریقی یونین کے صدر دفتر میں چائنا میڈیا گروپ کو ایک خصوصی انٹرویو دیا۔ہفتہ کے روز انہوں نے کہا کہ افریقہ اور چین کے درمیان تعلقات مشترکہ مفادات، باہمی احترام اور باہمی افہام و تفہیم پر استوار ہیں۔ افریقہ نے طویل عرصے تک مساوی شراکت داری پر مبنی تعاون کے اس ماڈل کی تلاش کی ہے جو اسے چین کے ساتھ میسر آیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 26 برسوں میں چین-افریقہ تعاون فورم نے دونوں فریقوں کے لیے ایک تعمیری اور موثر تعاون کا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے ۔ ا ن کے خیال میں افریقہ نے چین کے ساتھ تعاون کا بہت اچھا فریم ورک قائم کیا ہے۔ محمود علی یوسف نے کہا کہ کئی سالوں کے دوران اس شراکت داری کی تعمیر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے گرد گھومتی رہی ہے۔ چین نے افریقہ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، ریلوے، بندرگاہوں، لاجسٹکس سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری اور تعمیر کی ہے۔ اس بنیاد پر، افریقہ نے توانائی اور پاور گرڈ کی تعمیر جیسے شعبوں میں اپنے تعاون کو مزید وسعت دی ہے اور اب لوگوں سے لوگوں کے تبادلے پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے ۔ افریقی یونین کمیشن کے چیئرمین نے امید کا اظہار کیا کہ گزشتہ برسوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری کے ٹھوس نتائج دیکھنے کو ملیں گے جو لوگوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنائیں گے۔غربت کے خاتمے میں چین کی کامیابیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ چین نے اپنے لوگوں کو غربت سے نکال کر ایک معجزہ تخلیق کیا ہے اور امید ہے براعظم افریقہ اس کامیاب تجربے سے سیکھ کر لاکھوں افریقیوں کو غربت سے بچانے کے قابل ہو گا ۔ان کا کہنا تھا کہ افریقہ چینی ماڈل کو مکمل طور پر نقل نہیں کر سکتا لیکن چین کی شاندار کامیابی سے متاثر ہو کر اس سے سیکھا ضرور جا سکتا ہے ۔محمود علی یوسف نے مزید کہا کہ افریقی یونین ایک چین کے اصول کو تسلیم کرتی ہے اور اس پر عمل پیرا ہے اور علیحدگی کی کسی بھی کوشش کی حمایت نہیں کرے گی ۔





