
بیجنگ : چین کی جانب سے قوانین و ضوابط کے مطابق جاپان کو دوہرے استعمال کی اشیاء پر حالیہ برآمدی کنٹرول کے نفاذ کے بعد سے ،جاپان نے نہ صرف مسئلے کی بنیادی وجہ کا سامنا کرنے سے گریز کیا بلکہ اس نے چین پر "معاشی جبر” کا الزام بھی لگایا ۔ اس کے جواب میں، چین کی وزارت تجارت نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے الزامات کی "سختی سے مخالفت کرتی ہے اور انہیں قطعی طور پر مسترد کرتی ہے”۔تو چین نے جاپان کے خلاف دوہرے استعمال کی اشیاء پر برآمدی کنٹرول کیوں سخت کردیا ہے؟ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے، سانائے تاکائیچی حکومت نے چین کے خلاف فوجی دھمکیاں دیں بلکہ "تین سیکیورٹی دستاویزات” میں ترمیم کو بھرپور انداز میں آگے بڑھایا ہے، جس سے جاپانی دائیں بازو کی قوتوں کے "دوبارہ عسکریت پسندی” کو فعال کرنے کے عزائم کھل کر سامنے آ گئے ہیں ۔ مالی سال 2026 میں جاپان کا دفاعی بجٹ 9 ٹریلین ین سے تجاوز کر جائے گا، جو تاریخ کی بلند ترین سطح ہے، اور اس میں مسلسل 14 برس سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم یہ خطیر رقم جاپان کی سرزمین کے دفاع پر مرکوز نہیں، بلکہ زیادہ تر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں پر خرچ کی جا رہی ہے، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے جاپان کی "صرف دفاع ” کی پالیسی کی واضح خلاف ورزی ہے۔ جاپان "تین غیر جوہری اصولوں” میں ترمیم کرکے جوہری ہتھیار متعارف کرانے پر پابندیاں ہٹانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ بنیادی پالیسی کی تبدیلیوں کا یہ سلسلہ، نہ صرف جاپان کے امن پسند آئین کی روح سے انحراف پر مبنی ہے بلکہ پوٹسڈیم اعلامیہ، اور جاپان کے ہتھیار ڈالنے کی دستاویز سمیت بین الاقوامی قانونی دستاویزات کے تحت جاپان پر عائد پابندیوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، جو جنگ کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی نظام کو کھلا چیلنج دینے کے مترادف ہے۔ جاپان کے خلاف چین کے برآمدی کنٹرول کے اقدامات کا مقصد ،دوسری جنگ عظیم کی فتح کے ثمرات کی حفاظت اور علاقائی امن و استحکام کا تحفظ کرناہے۔ جاپان کی جانب سے مسئلے کی بنیادی وجہ کو نظر انداز کرکے چین پر الزام تراشی کے اقدامات نےخود چین کے اقدامات کی ضرورت اور جائز نوعیت کو مزید ثابت کردیاہے۔





