
اقوام متحدہ : ایران کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ جمعہ کے روز اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے قائم مقام نمائندے سن لے نے کہا کہ چین ایران کے خلاف کسی بھی قسم کے فوجی دھمکی کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ ایران کے اندرونی معاملات کا فیصلہ ایرانی عوام کو خود کرنا چاہیے۔ چین امریکہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے منشورکے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے طاقت کے استعمال کی ضد ترک کرے۔ سن لے نے نشاندہی کی کہ امریکہ کی ایران کے خلاف طاقت کی کھلی دھمکیوں سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طاقت مسائل کو حل نہیں کر سکتی بلکہ انہیں مزید پیچیدہ اور مشکل بنا دیتی ہے۔ چین ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے، بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال یا دھمکی دینے، دوسرے ممالک پر اپنی مرضی مسلط کرنے، اور دنیا کو دوبارہ "جنگل کے قانون” کی طرف دھکیلنے کی مخالفت کرتا ہے۔ چین کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ فریق عالمی برادری اور خطے کے ممالک کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیں اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو برقراررکھنے کے لیے مزید کام کریں۔ اسی دن روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ روس ہر طرح کی یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے اور ایران کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔





