
بوظہبی: نیوزی لینڈ کی معروف کمنٹری جوڑی سائمن بلیئر ڈول اور ڈینی موریسن نے ابوظہبی ٹی10 کے نویں ایڈیشن پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے ٹورنامنٹ کی کارکردگی، کھلاڑیوں کے معیار اور ابھرتی ہوئی صلاحیتوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سائمن بلیئر ڈول نے ٹورنامنٹ کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ ایونٹ میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کا معیار بہتر ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال یہ لیگ مزید اعلیٰ درجے کے کرکٹرز کو متوجہ کرتی ہے،۔ابوظہبی ٹی10 میں ابھرنے والی مقامی صلاحیتوں پر بات کرتے ہوئے ڈینی موریسن نے یو اے ای کے نوجوان فاسٹ بولر زوہیر اقبال کو خصوصی طور پر سراہا، جو اب تک آٹھ میچوں میں 10 وکٹیں لے کر نمایاں رہے ہیں۔موریسن کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی بولرز کے درمیان بھی زوہیر اقبال نے خود کو منوایا ہے۔ وہ ڈومیسٹک سطح پر سرفہرست بولر ہیں اور اسپن اسٹالینز کے لیے اہم مواقع پر وکٹیں لیتے رہے ہیں۔ انہوں نے گیند کو بہترین انداز میں سوئنگ کرایا ہے اور پچز بھی بولرز اور بیٹرز دونوں کے لیے سازگار رہی ہیں۔سائمن ڈول نے ٹی10 کرکٹ کو مستقبل کا فارمیٹ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ابوظہبی ٹی10 تیز رفتار، سنسنی خیز اور انتہائی مسابقتی ہے۔ یہ کرکٹ کی وہ شکل ہے جو مستقبل کا انداز دیتی ہے۔ اس فارمیٹ میں وقت کم لگتا ہے اور محض ڈیڑھ سے دو گھنٹے میں مکمل تفریح فراہم ہوتی ہے۔ٹورنامنٹ کے آخری مرحلے—کوالیفائر ٹو اور فائنل—سے چند گھنٹے قبل ڈینی موریسن نے دو ٹیموں کو ٹائٹل کی دوڑ میں مضبوط قرار دیا۔ ان کے مطابق کوئٹہ کیولری اس موسم کی سب سے مستقل مزاج ٹیم رہی ہے، چاہے کھلاڑیوں میں کچھ تبدیلیاں ہی کیوں نہ آئیں۔ اگر وہ جیت جائیں تو حیرانی نہیں ہوگی۔ مگر حیرت اس بات پر ہے کہ یو اے ای بُلز، اتنی صلاحیت رکھنے کے باوجود، بمشکل چوتھے نمبر پر پلاے آف میں پہنچے۔ فرنچائز کرکٹ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ٹیم آخری لمحے میں جگہ بناتی ہے اور پھر پورا ٹورنامنٹ جیت جاتی ہے۔





