‘بلبلِ صحرا’ ریشماں کومداحوں سے بچھڑے 8 برس بیت گئے

reshman

بلبل صحرا ریشماں کومداحوں سے بچھڑے 8بر س بیت گئے،اپنے گیتوں کے ذریعے آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں،ریشماں کی مسحور کن آواز نے نہ صرف پاکستان بلکہ سرحد پار بھی لوگوں کے دل جیتے۔بھارتی ریاست راجستھان کے علاقے بیکانیرمیں پیدا ہونے والی ریشماں قیام پاکستان کے فوری بعد اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کراچی آبسیں، انہوں نے گائیکی کی کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور 12 برس کی عمر میں گائیکی شروع کردی، لعل شہباز قلندر کے مزار پر اپنے فن کے مظاہرے کے دوران ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر سلیم گیلانی نے انہیں سنا اور پھر ریڈیو پر گانے کا موقع دیا، 60 اور 70 کی دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن سے نشر ہونے والے گیتوں نے ریشماں کو پاکستان کی مقبول ترین لوک گلوکارہ بنایا۔ان کی شہرت سرحد پار پہنچی تو معروف بھارتی ہدایت کار سبھاش گھئی نے ان کی آواز اپنی ایک فلم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں ریشماں نے ان کی فلم ہیرو کے لئے لمبی جدائی گایا جو آج بھی سرحد کے دونوں جانب انتہائی مقبول ہے، اس فلم کو آج بھی ریشماں کے اس گانے کی وجہ سے ہی جانا جاتا ہے۔بلبل صحرا کہلانے والی ریشماں نے کئی عشروں تک لوک موسیقی میں اپنی آواز کا جادو جگایا اور اردو کے علاوہ پشتو، سندھی اور راجستھانی زبانوں میں گیت گائے، حکومت پاکستان کی جانب سے ریشماں کو ان کی خدمات کے اعتراف میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا، آخری وقت میں ریشماں کو گلے کا کینسر ہوگیا تھا جس کا انہوں نے علاج بھی کرایا لیکن اس مرض نے 2013 میں ان کی جان لے لی۔ ریشماں تو اس دنیا سے راہی عدم کوچ کرگئیں لیکن وہ اپنے مداحوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

تبصرہ کریں:

متعلقہ خبریں