کراچی(آئی پی ایس)سندھ میں ملیریا اور بخار کی دوا ختم ہو گئی ،متاثرین کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں۔

 

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ سیلابی پانی کو علاقوں سے 2 ماہ میں نکال دیا جائے گا، مطلوبہ چیزیں میسر نہ ہونے کے باعث متاثرہ علاقوں میں سیل نہیں ہو سکی۔

 

وزیر اعلی مراد علی شاہ نے لاڑکانہ رتودیرو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کسی کو اس کا اندازہ بھی نہیں کہ کتنی بارش ہوئی، میں سندھ بھر کے اضلاع میں گیا ہوں، میں نے متعدد کیمپس کا دورہ کیا لوگ سڑکوں پر بیٹھے ہیں مختلف اضلاع سے لاڑکانہ آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ بھر ایورج 11 سو ملی میٹر بارش ہوئی چند علاقوں میں 18 سو ملی میٹر تک ہوئی، کشمور سے سیہون تک کے تمام اضلاع دریا کا منظر پیش کر رہے ہیں، 1 سو 40 ملین ایکڑ فٹ پانی آیا ہے۔

 

مراد علی شاہ نے کہا کہ تربیلا ڈیم جیسے 20 ڈیمز کے پانی جتنی بارش سندھ میں ہوئی، پانی صرف منچھر جھیل کے ذریعے دریائے سندھ میں جائے گا اور کوئی حل نہیں، پانی کو علاقوں سے نکلنے میں ابھی وقت لگے گا۔وزیر اعلی سندھ کا کہنا ہے کہ صرف 4 سے ساڑھے 4 لاکھ ٹینٹس ابھی تک بانٹ چکے ہیں جو کہ کافی نہیں ہیں، بیرونی امداد ضرور ملی ہے میں سب کا شکر گزار ہوں لیکن ساری امداد ملا کر صرف 10 ہزار ٹینٹس ملے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کو امداد نہیں پہنچا سکے اسکی کی وجہ مطلوبہ چیزوں کی ترسیل کا نہ ہونا ہے، ملیریا کی دوا ختم ہوگئی، بخار کی دوا ختم ہو گئی، مچھردانیوں کی قلت ہے پیسوں کی قلت نہیں سامان کی قلت ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے دریائے سندھ کو 6 مقامات سے کٹ دیئے اس کے باوجود صرف 2 لاکھ کیوسک پانی منچھر سے دریائے سندھ میں جا رہا ہے۔مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ شھداد کوٹ اور ایف بی بند میں لگائے گئے بریچز کو بند کرنے کے احکامات دے دیئے ہیں، سیلاب اور بارش کا 75 فیصد پانی 2 ماہ میں نکال دیا جائے گا باقی کو وقت لگے گا۔