کورونا کی نئی قسم نے کھلبلی مچادی،خام تیل کی قیمت ڈیڑھ سال کی کم ترین سطح پر

کورونا کی نئی قسم نے کھلبلی مچادی،خام تیل کی قیمت ڈیڑھ سال کی کم ترین سطح پر

اسلام آباد/لندن /نیویارک،عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 10 فیصد کی نمایاں کمی آئی ہے جس کے بعد یہ قیمت گزشتہ ڈیڑھ سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق جمعہ کے روز مارکیٹ کھلتے ہی خام تیل کی قیمت میں 8 اعشاریہ 77 ڈالر کمی دیکھی گئی ہے جو کل قیمت کا 10 اعشاریہ 7 فیصد ہے جس کے بعد فی بیرل قیمت 73 اعشاریہ 45 ڈالر تک گرگئی۔اس بڑی کمی کی وجہ کورونا وائرس کی سب سے تبدیل شدہ قسم کو قرار دیا جارہا ہے جسے جنوبی افریقا میں حال ہی میں دریافت کیا گیا ہے۔ قیمت میں یہ کمی اپریل 2020 کے مقابلے میں سب سے بڑی کمی ہے جو کہ ڈیڑھ سال بعد ہوئی ہے۔دوسری جانب تیل کی زائد پیداوار بھی اس کمی کی ایک اہم وجہ قرار دی گئی ہے تاہم اب بھی زیادہ حلقوں کی جانب سے جنوبی افریقا میں نمودار ہونے والے کورونا وائرس کی نئی جینیاتی تبدیل شدہ شکل کو اس کا ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے اور کئی ممالک پہلے ہی جنوبی افریقا سے آمدورفت پر پابندی عائد کرچکے ہیں۔دریں اثنا مختلف اقسام کے خام تیل میں مختلف کمی ہوئی ہے مثلا ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 9 ڈالر تک کم ہوئی جو ساڑھے 11 فیصد کمی ہے اور اس کے بعد 69 اعشاریہ 77 ڈالر فی بیرل رہ گئی ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر اپریل 2020 کے بعد سے اب تک خام تیل کی قیمت میں یہ سب بڑی کمی دیکھی گئی ہے۔دوسری طرف کورونا کی نئی قسم پر مختلف ملکوں کی طرف سے سفری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں ۔ڈبلیو ایچ او کے پینل نے اس ویرینٹ کو اومیکرون کا نام دیا ہے اور اس کی درجہ بندی تیزی سے منتقل ہونے والے وائرس کے طور پر کی گئی ہے، یہ اس سے قبل غالب وائرس ڈیلٹا ویرینٹ کی ہی قسم ہے،جس کے کیسز یورپ اور امریکا میں اب بھی سامنے آرہے ہیں اور یہ لوگوں کی اموات کی وجہ بن رہا ہے۔یہ وائرس امریکا میں پابندیاں ختم ہونے کے بعد اور زندگی معمول پر آنے کا جشن منانے کے بعدسامنے آیا جس میں تصور کیا گیا تھا ویکسین لگوانے افراد کی زندگی معمول پر آگئی ہے۔نئی سفری پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے ہم محتاط رہیں گے۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ ہم اب تک سمجھ نہیں سکیں ہیں کہ اومیکرون کس حد تک خطرناک ہوگا، ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دیگر منتقل ہونے والے وائرس کے مقابلے دوبارہ انفیکشن کا خطرہ زیادہ بڑھا سکتا ہے۔انہوں نے کہا وہ افراد جو کورونا وائرس سے متاثر ہو کر صحتیاب ہوچکے ہیں یہ وائرس ان پر حملہ آور ہوسکتا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یہ جاننے میں ہفتوں لگیں گے کہ کیا موجودہ ویکسین اس کے خلاف موثر ہیں یا نہیں۔جنوبی افریقہ میں اس وائرس کی تشخیص کے بعد امریکا، کینیڈا، روس اور دیگرممالک کے میزبانی کرنے والے مشترکہ یورپی یونین نے اس خطے سے آنے والے مسافروں پر پابندی عائد کردی ہے، یہ ویرینٹ انفیکشن میں نیا اضافہ ہے۔

اسٹاف رپورٹر

اسٹاف رپورٹر

انڈیپینڈنٹ پریس سروسز (آئی پی ایس) کے اسٹاف رپورٹر

تبصرہ کریں:

متعلقہ خبریں