اسلام آباد(آئی پی ایس) آزاد کشمیر میں 08 اکتوبر 2005 کے قیامت خیز زلزلے کو 17 سال مکمل ہوگئے ہیں۔اس ضمن میں مرکزی دعائیہ تقریب یونیورسٹی کالج گراؤنڈ مظفرآباد میں منعقد کی گئی جس میں وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس بحثیت مہمان خصوصی شریک ہوئے۔

وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر سردار تنویر الیاس نے مظفرآباد شہدائے زلزلہ کی یاد گار پر پھولوں کی چادر چڑھائی جبکہ ولیس کی چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔

2005 میں 8 اکتوبر کے دن کشمیر میں آنے والا زلزلہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین اور دنیا کا چوتھا بڑا زلزلہ تھا۔

پاکستان میں سال 2005 میں 7.6 کی شدت سے آنے والا زلزلہ اپنے جغرافیائی اثرات اور شدت سمیت کئی اعتبار سے بہت مختلف تھا۔

2005 کا زلزلہ تمام ادوار میں ہونے والے زلزلوں میں المیے کے لحاظ سے بڑا زلزلہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس زلزلے کے نتیجے میں صرف پاکستان میں 3.3 ملین لوگ بے گھر ہوئے تھے جبکہ پہاڑی علاقے میں آنے والے زلزلے بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ کی جس کی وجہ سے مواصلات کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

2005 کے زلزے کے نتیجے میں تقریباً 80 ہزار سے زائد لوگ موت کی گھاٹ اتر گئے تھے جبکہ 1 لاکھ کے قریب لوگ زخمی بھی ہوئے تھے۔

کشمیر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول کو پانچ مختلف جگہوں سے تاریخ میں پہلی بار کھول دیا گیا، تاکہ لوگوں کو باآسانی صحت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچائی جا سکے۔