مشکل فیصلے نہ کرتے تو حالات سری لنکا جیسے ہوتے، مفتاح اسماعیل

مشکل فیصلے نہ کرتے تو حالات سری لنکا جیسے ہوتے، مفتاح اسماعیل

اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)نے وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر 6 ہزار 100 ارب روپے ریونیو جمع کیا جو گزشتہ سال کی نسبت 45 فیصد زیادہ ہے۔

اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین عاصم احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتاح اسمعیل نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت کے بعد ہم نے تمام رقم ادا کردی اور بزنسز میں 100 ارب روپے ڈالے ہیں، جس سے کاسٹ آف کیپیٹل بھی کم ہوگا اور کاسٹ آف ورکنگ بھی بڑھے گا جس سے آئندہ سال درآمد بڑھانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ جب پچھلی حکومت نے اپنا ہدف 6 ہزار 100 ارب روپے روپے رکھا تھا تو اس میں مارچ تک پیٹرولیم مصنوعات پر کچھ سیلز ٹیکس ہوتا تھا لیکن اس کے بعد انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس ختم کردیا اور پچھلے سال پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی مد میں 150 ارب روپے ملے تھے اور جب ہم نے یہ ٹیکس ختم کردیا تھا تو ایف بی آر کے سابق چیئرمین سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ اگر آپ پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لاگو نہیں کریں گے تو میں 6 ہزار 100 ارب روپے اکٹھے نہیں کر سکوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود بھی نہ صرف انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر 6 ہزار 100 ارب روپے ریونیو جمع کیا بلکہ اس سے 20 ارب روپے تجاوز کر گئے، جبکہ میں نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کو جو ریونیو جمع کرنے کی رقم لکھوائی تھی وہ 6 ہزار 50 ارب روپے تھی۔

وزیر خزانہ نے ایف بی آر، انکم ٹیکس اور کسٹم کے تمام حکام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین ایف بی آر نے وہ کام کر دکھایا ہے جو اس ملک کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کرکے گئی ہے اس پر میں نے قرض دہندہ ادارے سے رعایت لی ہے کہ ہم عوام پر اتنا ٹیکس لاگو نہیں کریں گے لیکن اس وقت جو مسئلہ ہے وہ یہ کہ دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ اس کا نقصان ہم برداشت نہیں کر سکتے، اگر ہم چاہیں تو دو ماہ تک پیٹرول سستا فروخت کر سکتے ہیں مگر پھر ڈالر ختم ہو جائیں گے، پھر دیوالیہ کی طرف جائیں گے جس طرح سری لنکا نے اس چیز کا انتخاب کیا تھا۔

چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد کا کہنا تھا کہ ہم نے ہر ممکن کوشش کرکے چیلنج قبول کیا اور انفورسمنٹ اور ریکوری پر خصوصی توجہ دی۔ انفورسمنٹ اقدامات سے ٹیکس محصولات بڑھیں ۔ بولے شوگر اور تمباکو کے بعد فرٹیلائزر اور سیمنٹ سسٹم پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تنصیب کئے جائیں گے۔

اسٹاف رپورٹر

اسٹاف رپورٹر

انڈیپینڈنٹ پریس سروسز (آئی پی ایس) کے اسٹاف رپورٹر