الیکشن کمیشن نے الیکٹرونک مشینوں کی خریداری کے لئے حکومت سے فنڈمانگ لئے

election commission

الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے حکومت سے فنڈ مانگ لئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے حکومت کو فنڈز جاری کرنے سے متعلق خط لکھ دیا ۔الیکشن کمیشن کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر آئندہ عام انتخابات اکتوبر 2023 میں ہوں گے، اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق اہم اقدامات کرنے ہیں، الیکشن کمیشن کو 8 لاکھ سے زائد الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کی اسٹوریج کیلئے ویئر ہاس درکار ہوگا، اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کو ڈیٹا سینٹر، کنٹرول سینٹر، جدید لیب، پرنٹنگ اور ٹریننگ سیشنز کے لیے عمارت بھی درکار ہوگی۔ایک سال گزرنے کے باوجود پلاننگ کمیشن نے عمارت کی تعمیر کے لئے فنڈز جاری نہیں کئے۔الیکشن کمیشن نے اپنے خط میں کہا کہ ضروری انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے فنڈز میں تاخیر سے پہلے ہی وقت کاضیاع ہوچکاہے، پلاننگ کمیشن اسلام آباد کے سیکٹر ایچ الیون میں عمارت کی تعمیر کے لئے جلدازجلد فنڈز جاری کرے، وزارت ہاسنگ اینڈ ورکس عمارت کی تعمیر کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرے،یئر ہاس بر وقت تعمیر نہ ہونے کے خدشہ کے پیش نظرحکومت کسی سرکاری عمارت میں جگہ مختص کرے۔واضح رہے کہ وزارت پارلیمانی امور کا کہنا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن 8لاکھ سے زائد الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں خریدے گا، جب کہ الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی سٹوریج کیلئے تین ایکڑ زمین درکار ہو گی ۔

تبصرہ کریں:

متعلقہ خبریں