ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کا آٹھویں سالانہ ڈیٹا پرائیویسی قومی کانفرنس کا انعقاد

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کا آٹھویں سالانہ ڈیٹا پرائیویسی قومی کانفرنس کا انعقاد

 اسلام آباد(آئی پی ایس )ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن آٹھویں سالانہ ڈیٹا پرائیویسی قومی کانفرنس ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن نے اپنی آٹھویں سالانہ ڈیٹا پرائیویسی قومی کانفرنس کا انعقاد بروز بدھ کو میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں منعقد کیا۔ کانفرنس میں مختلف شعبہ جات کے ماہرین نے شمولیت کی، جن میں وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن، نادرا، اور دوسرے متعلقہ ادارے شامل ہیں۔ کانفرنس کا آغاز ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد کے افتتاحی کلمات سے ہوا جس میں انھوں نے ملک میں ڈیٹا پرائیویسی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انھوں نے کہاکہ پرائیویسی کا حق بنیادی ہے،تاہم ڈیجیپل دور میں تفصیلی اور تعمیری مباحثے کی ضرورت ہے جس میں تمام متعلقہ ادارے، حکومت، کاروباری لوگ، بنیادی حقوق کی تنظیمیں اور عام شہری شامل ہوں۔یہ کانفرنس مختلف پینلز پر مشتمل تھی۔پہلے پینل کا عنوان پاکستان میں ڈیجیٹل شناخت کتنی ذاتی ہے تھا جس کی میزبانی ڈیجیٹل رائٹس فانڈیشن کی ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ پالیسی نے کی۔ نادرا کے چیئر مین طارق ملک نے مہمان سپیکر کے طور شمولیت اختیار کی۔ انھوں نے شہریوں اور حکومت کے درمیان سماجی معاہدے کے اہم عنصر کے طور پرڈیٹا پرائیویسی کے لائحہ عمل کی یکساں فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان میں ڈیٹا پروٹیکشن کے قانون کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ڈیٹا پروٹیکشن کی قانون سازی کے مسودہ کی تیاری کانفرنس کا دوسرا پینل تھا۔ اس کی میزبانی ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی پراجیکٹ مینیجر زینب درانی نے کی- اس پینل پر ہمارے معزز مہمانان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے ڈائریکٹر بلال عباسی اور کیٹالسٹ لیب کی بانی جہان آرا مدعو تھیں۔ جہان آرا نے کہاکہ ایک مظبوط ڈیٹا پروٹیکشن قانون کو حکومتی اور نجی اداروں پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ حکومتی اداروں کے پاس شہریوں کا بہت سا ڈیٹا موجود ہوتا ہے۔ بلال عباسی نے کہا کہ وزارت ڈیٹا پروٹیکشن بل پر کام کر رہی ہے حلانکہ پہلا مسودہ انسانی حقوق کے لحاظ سے دوستانہ نہیں تھا، قانون کا موجودہ ورژن پاکستان کے مقامی سیاق و سباق کو مد نظر رکھتے ہوئے جی ڈی پی آر جیسے بین الاقوامی قوانین اور بہترین طریقوں کی عکاسی کرتا ہے۔ آخری پینل دو حصوں پر مشتمل تھا پہلے حصے میں ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد نے وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کے ساتھ انسانی حقوق کے نقطہ نظر سے پرائیویسی پر بات کی۔ انھوں نے کہاکہ پرائیویسی کا حق بنیادی ہے لیکن اس حق کو دوسرے مسابقتی حقوق کے ساتھ متوازن کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ خواتین کے لیے رازداری اور بھی اہم ہے ذرا نور مقدم کیس کے مرکزی دھارے کے میڈیا پر نشر ہونے والی فوٹیج کو دیکھیں جو ان کے خاندان کے لیے بہت زیادہ پریشانی کا باعث بنا۔ خواتین کے خلاف تشدد کے قوانین میں نئی ترامیم اب تشدد کا شکار ہونے والوں کی پرائیویسی کو یقینی بناتی ہے تا کہ ان کے وقار کو یقینی بنایا جا سکے۔ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز بل پر الگ سے بات کرتے ہوئے محترمہ مزاری نے اسے ہماری حکومت کی تاریخی کامیابی قرار دیا، اس میں تمام بڑے صحافی اداروں اور سینیر صحافیوں کے ان پٹ شامل ہیں۔ جبکہ دوسرے حصے میں ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی مینیجر سیرت خان نے بولو بھی کے تجربہ کار ڈائریکٹر اسامہ خلجی کے ساتھ پینل کا اختتام کیا۔ اسامہ نے کہا کہ ہمیں ایک پرائیویسی کمیشن کی ضرورت ہے،جو مجوزہ پرائیویسی کمیشن سے آزاد ہو جو حکومت سے الگ ہو جو ریاست اور طاقتور اداروں کو جوابدہ ٹھہرا سکے۔ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن پاکستان میں کام کرنے والا ایک ریسرچ پر مبنی پرایئوٹ اور رجسٹرڈ ادارہ ہے جس کی بنیاد نگہت داد نے 2012 میں رکھی۔ ڈی-آر-ایف کی بنیادی مقاصد میں انسانی حقوق، مساوی سلوک، جمہوری عوامل اور ڈیجیٹل گورننس شامل ہیں۔ ڈی-آر-ایف آن لائن فری سپیچ، پرائیویسی، ڈیٹا پروٹیکشن اور عورتوں کے خلاف آن لائن تشدد کے تدارک کے لیے کام کرتا ہے۔

اسٹاف رپورٹر

اسٹاف رپورٹر

انڈیپینڈنٹ پریس سروسز (آئی پی ایس) کے اسٹاف رپورٹر

تبصرہ کریں:

متعلقہ خبریں