موسم گرما کے دوران پانی کی بلا تعطل فراہمی کیلئے سی ڈی اے کے خصوصی اقدامات

سی ڈی اے شعبہ بلڈنگ سائوتھ نے مارچ کے مہینے میں 25 ملین کا ریونیو اکٹھا کیا

اسلام آباد(آئی پی ایس)وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے )کے چیئرمین کی زیرِ صدارت منگل کے روز موسم گرما بالخصوص گرمی کی حالیہ لہر کے دوران پانی کے ترسیلی نظام کے حوالے سے ایک اہم مٹینگ منعقد ہوئی جس میں متعلقہ شعبوں کے افسران سمیت نے شرکت کی۔

چیرمین کپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو بریفننگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ برس مون سون کی بارشیں نسبتا کم ہوئیں۔ جس کے باعث پانی کے ذخائر زیادہ تسلی بخش نہیں تھے لیکن واٹر سپلائی ونگ کی موثر منصوبہ بندی کے تحت متبادل ذرائع سے شہریوں کو پانی کی بلا تعطل فراہمی جاری رہی۔ انکو مزید بتایا گیا کہ شعبہ شہر میں 18 نئے ٹیوب ویلز کو آپریشنل کردیا ہے۔ جس سے یومیہ 5 ملین گلین اضافی پانی سسٹم میں شامل ہوا ہے۔

اسی طرح 14 پرانے ٹیوب ویلز کی مرمت اور بحالی سے بھی اضافی پانی سسٹم میں شامل ہوا ہے۔ مزید برآں پانی کی تنصیبات میں واٹر لیکجز سمیت دیگر ایسے نقائص جو پانی کے ضیاع کا سبب بن رہے تھے ایک ہزار سے زائد مقامات پر ان پر بھی قابو پالیا گیا ہے جس سے یومیہ 10 ملین گلین سے زائد پانی واٹر سسٹم نیٹ ورک میں شامل ہوا ہے۔بریفننگ کے دوران چیئرمین سی ڈی اے کو مزید بتایا گیا کہ پانی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے سملی ڈیم سے بھی یومیہ 20 جبکہ خانپور ڈیم سے 9 اور راول ڈیم سے 2 ملین گلین اضافی پانی حاصل کیا جارہا ہے جبکہ راول ڈیم سے مزید 2 ملین گلین اضافی پانی بھی جلد ہی سسٹم کے اندر شامل کرلیا جائے گا۔ اسی طرح شہر کے 4 مختلف واٹر ورکس کی مرمت اور بحالی کے بعد انکی کاکردگی میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے جسکے بعد تقریبا 4 ملین گلین اضافی پانی سسٹم میں شامل کیا گیا ہے۔

اسی طرح پانی تنصیبات میں موجود 115000 فٹ پرانی اور بوسیدہ چھوٹی، بڑی پائپ لائنوں کو بھی تبدیل کیا گیا ہے جسکی وجہ سے لیکج پر بھی قابو پایا گیا ہے اسکے ساتھ ساتھ پانی کے پریشر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ سیکٹر جی الیون، آئی نائن اور آئی ٹین کے پانی کے دیرینہ مسائل پر قابو پانے کیلئے بھی موثر حکمت عملی بنائی ہے جسکے تحت پانی کی شکایات میں نمایاں کمی آئی ہے اس سلسلے میں پونا فقیراں واٹر ورکس سے پانی کی سپلائی میں اضافے کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ جبکہ مزکورہ سیکٹرز میں 3 نئے ویلز بھی نصب کئے جارہے ہیں جنکو جلد ہی آپریشنل کردیا جائے گا۔ مزیدبرآں پانی کی تنصیبات پر جلد ہی جدید آٹو میشن سسٹم بھی نصب کردئیے جائیں گے جس کے فیز ون کے لئے پونا فقیراں، آئی ایٹ، ایچ ایٹ میں موجود پانی کی تنصیبات پر آٹو میشن سسٹم نصب کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے جنکو جلد ہی فنکشنل بنادیا جائے گا۔

اسی طرح سیکٹر آئی چودہ کے رہائشیوں کو ہفتے میں تین مرتبہ واٹر ٹینکرز سے پانی سپلائی کیا جارہا ہے جبکہ مزکورہ سیکٹر میں واٹر سپلائی پائپ لائنوں کو بچھانے کا کام سلسلہ بھی تیزی سے جاری ہے۔علاوہ ازیں سی ڈی اے انتظامیہ نے شہر میں مختلف پانی تنصیبات پر سٹینڈ بائی جنریٹرز کا بندوبست بھی کیا ہے تاکہ شہریوں کو پانی کی سپلائی شیڈول کے مطابق جاری رکھی جاسکے. واٹر سپلائی ونگ کی فیلڈ میں موجود گاڑیوں اور عملے کی کارکردگی اور انکی مانیٹرنگ کے لئے جدید ٹریکر سسٹم بھی نصب کردئیے گئے ہیں جبکہ دفتر میں مامور عملے کی مانیٹرنگ کے لئے بھی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کردئیے گئے ہیں۔

واٹر سپلائی ونگ کے اقدامات سے ستر فیصد سے زائد پانی کی شکایات پر پالیا گیا ہے۔اس موقع پر چیئرمین کپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ گرمی کی حالیہ لہر اور بالخصوص موسم گرما کے دوران تمام ٹینکرز کو فنکشنل کیا جائے اور شہر میں موجود پانی کی تنصیبات میں واٹر لیکجز سمیت دیگر ایسے نقائص جو پانی کے ضیاع کا سبب بن رہے ہیں ان پر فورا قابو پایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ پانی شہریوں کے استعمال میں لایا جاسکے اسی طرح شہریوں کی پانی کے حوالے سے شکایات کا فوری ازالہ بھی کیا جائے۔اس ضمن میں سی ڈی اے انتظامیہ نے بھی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پانی کے استعمال میں احتیاط برتیں اور پانی کے ضیاع سے اجتناب کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ پانی شہریوں کے استعمال میں لایا جاسکے۔

اسٹاف رپورٹر

اسٹاف رپورٹر

انڈیپینڈنٹ پریس سروسز (آئی پی ایس) کے اسٹاف رپورٹر

تبصرہ کریں:

متعلقہ خبریں