پٹرول کی قیمتیں بڑھا کر پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ، مفتاح اسماعیل

پٹرول  کی قیمتیں بڑھا کر پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ، مفتاح اسماعیل

 

اسلام آباد (آئی پی ایس) وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عمران خان کی حکومت ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب چھوڑ کر گئے تھے ، اللہ کی مہربانی سے پٹرول ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ عمران خان اپنے چار سال میں خسارے کے بجٹ دے کر گئے ، عمران خان جب حکومت میں آئے تو پاکستان پر 25 ہزار ارب کا قرض تھا مگر جب وہ حکومت چھوڑ کر گئے تو ملک پر 45 ہزار ارب کا قرض تھا، یہ کیسے خود مختاری کی باتیں کرتے ہیں ، اصل خود مختاری تب ہوگی جب بجٹ خسارے ختم ہونگے ۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم نے ایسا کوئی ٹیکس نہیں عائد کیا جو ہم پر نہ لگا ہو ، سب سے زیادہ ٹیکس شوگر ملز پر لگایا جو وزیر اعظم اور ان کے بیٹوں کی بھی ہے ، میری کمپنی کو بھی 25 سے 30 کروڑ کا اضافی ٹیکس دینا ہوگا۔ اب سے قبل پاکستان میں غریب ٹیکس ادا کرتا رہا ہے ، جس نہج پر عمران خان ملک کو چھوڑ کر گئے وہ دیوالیہ پن کے قریب تھا ، آج یہی لوگ ہمیں بھاشن دیتے ہیں ۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ مجھے پی ایچ ڈی کئے 30 برس ہو چکے ہیں ، میں 20 سا ل بزنس کر چکا جبکہ 10 سال سے سیاست میں ہوں ،میں نے کبھی ایسی حالت پاکستان کی نہیں دیکھی تھی جو اب ہے ، ہمیں 120 ارب روپے مہینہ کا خسارہ صرف پٹرول کی مد میں ملا جو حکومت چلانے سے تین گنا زیادہ خرچہ ہے ۔ یہ پہلے پٹرول مہنگا کر کے مہنگائی کر رہے تھے تب انہیں غریبوں کا خیال نہیں آیا مگر جونہی ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی انہیں غریبوں کا خیال آگیا ، آپ کہتے ہیں کہ لوگوں کو نیوٹرل نہیں ہونا چاہئے ۔ اگر آج ہم آئی ایم ایف سے بات کر رہے ہیں تو دیوالیہ سے بچانے کیلئے کر رہے ہیں ۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کل چین میں 2.3 بلین یو آن کا قرضہ منظور ہوا ہے ، پرسوں ہم نے معاہدے پر سائن کر دیا تھا ، کل چین نے سائن کر دیا ، ایک دو دن میں یہ مل جائیں گے ۔ چین نے ہمارے سیف ڈپازٹ جن کی میعاد جون میں ختم ہو رہی تھی میں توسیع کر دی ہے ، چین کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہماری درخواست کے بناء خود سے ہی یہ مہربانی کی ۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عمران خان کے دور میں چینی کم کیوں نہ ہوئی ، ہماری حکومت جانے کے وقت چینی کی قیمت 55 روپے فی کلو تک تھی ، ان کے دور میں 150 روپے تک بھی گئی ، شہباز شریف کے آتے ہی چینی سستی کیوں ہوئی ، شہبا ز شریف کےآتے ہی سستی کیوں ہوئی ۔ہم چالیس روپے کا آٹا بیچ رہے ہیں ، عمران خان کیوں نہیں کر سکے ۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ کوکنگ آئل کی شارٹیج آنے لگی تو شہباز شریف نے انڈونیشیا کے صدر کو فون کیا ، ایک وزیر وہاں بھیجا جو جہاز نکلنے تک وہیں بیٹھا ، آج یوٹیلٹی سٹور پر 355 کا گھی مل رہاہے ۔ عمران خان حکومت نے لنگر خانے میں ایک روپیہ نہیں دیا ، سب سیلانی کے پیسے لگے تھے ،غریبوں کو سیلانی ویلفیئر کے حوالے کر دیا ، یوٹیلٹی سٹور سے کوئی ریلف نہیں ملا۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جانتے ہیں بہت مہنگائی ہے ، آسانی آئے گی ، خوشی ہے کہ پی ٹی آئی والوں کو بھی مہنگائی نظر آنے شروع ہو گئی ہے ، یہ اب انہیں بھی بری لگنےلگ گئی ہے ۔ ہم امیر لوگوں سے آمدن پر ٹیکس لیں گے ، 40 ہزار سے کم آمدن والے 60 لاکھ خاندانوں کو رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ کیا جن میں سے 10 لاکھ رجسٹرڈ ہو چکے ہیں ، انہیں دو ہزار روپے ملیں گے ، یوٹیلٹی سٹورز میں غربت انڈیکس ڈالیں گے ، جس خاندان کی انکم چالیس سے پچاس ہزار روپے سے کم ہے انہیں ہم تین سو روپے میں گھی دیں گے ۔ یوٹیلٹی سٹورز پر چینی 70 روپے کلو فروخت ہو رہی ہے ۔

 

اسٹاف رپورٹر

اسٹاف رپورٹر

انڈیپینڈنٹ پریس سروسز (آئی پی ایس) کے اسٹاف رپورٹر

تبصرہ کریں:

متعلقہ خبریں